0

امیر قطر کا دوحہ اجلاس میں خطاب: اسرائیل کے جھوٹے دعوے، گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا عالمی امن کے لیے خطرہ.

امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے دوحہ میں عرب اسلامی ہنگامی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یرغمالیوں کی پرامن رہائی کے حوالے سے اسرائیل کے تمام دعوے جھوٹے اور گمراہ کن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل اسرائیل کا اصل منصوبہ “گریٹر اسرائیل” کا ایجنڈا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کے رہنماؤں کو قطر آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں اور یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب فلسطینی عوام پر تاریخ کے بدترین مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ اسرائیل نے نہ صرف فلسطینیوں کی نسل کُشی شروع کر رکھی ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم میں تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ دوحہ میں اسرائیلی حملہ کھلی جارحیت تھی، جس سے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پامال ہوئی۔ قطر نے ثالثی کے طور پر امن قائم کرنے کی مخلصانہ کوششیں کیں، لیکن اسرائیل نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتے ہوئے حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا۔امیر قطر نے واضح کیا کہ اسرائیل کا یہ رویہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ صیہونی حکومت کے اقدامات کو صرف فلسطینی مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم قرار دینا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کی جائے تاکہ مزید خونریزی کو روکا جا سکے۔

او آئی سی سیکریٹری جنرل کا خطاب سیکریٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم طہٰ نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے ظلم و بربریت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی گھٹیا اور غیر انسانی فعل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فوری اور بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائی جائے۔انہوں نے قطر پر اسرائیلی حملے کو خطے کے لیے تشویش ناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا مستقل حل ناگزیر ہے۔

اجلاس میں شریک رہنما:دوحہ میں منعقدہ اس ہنگامی اجلاس میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے علاوہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوان، اردن کے شاہ عبداللّٰہ دوم، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، مصر اور تاجکستان کے صدور سمیت متعدد اسلامی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر مشترکہ حکمت عملی اپنانا اور فلسطینی عوام کی فوری امداد کے لیے عملی اقدامات تجویز کرنا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں