وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد قطر کی قیادت اور عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک روزہ سرکاری دورہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں قطر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، وزیراعظم نے قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی اور 9 ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔وزیراعظم نے اسرائیلی جارحیت میں ہونے والے جانی نقصان پر گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی ڈھٹائی کو روکنے کے لیے امتِ مسلمہ کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے غزہ میں قیامِ امن کی کوششوں میں قطر کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اقدامات کا مقصد علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا اور انسانی و سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔
مزید برآں، وزیراعظم نے بتایا کہ قطر کی درخواست پر پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور 15 ستمبر کو ہونے والے غیرمعمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں پاکستان بطور شریک اسپانسر اور شریک میزبان شامل ہوگا۔انہوں نے سال کے آغاز میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر کی گئی بلاجواز جارحیت کے دوران قطر کی حمایت پر امیرِ قطر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ امیرِ قطر نے دوحہ کے دورے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس یکجہتی کو سراہا۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن و استحکام، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور پاکستان و قطر کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔







