نئے ارکان کو 25 اگست کو اسمبلی اجلاس میں حلف لینے کا منصوبہ ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ارکان سے حلف لینے کے شیڈول مانگنے پر ایجنڈے میں حلف شامل کیا ہے۔ مذکورہ 25 ارکان 20 جولائی کو گورنر ہاؤس میں حلف اٹھا چکے ہیں، اور انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت پر حلف لیا تھا۔
مذکورہ 25 اپوزیشن ارکان نے 21 اور 31 جولائی کے سینیٹ انتخابات میں ووٹ کا حق استعمال کیا۔ ان ارکان نے اسمبلی میں بھی فعالیتوں میں شرکت کی ہے۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن کے 25 ارکان دوبارہ حلف کھاتے ہیں تو سینیٹ انتخابات کالعدم ہوسکتے ہیں۔ اس سناریو میں اگر سینیٹ انتخابات کالعدم ہوجائیں تو 12 سینیٹرز کا دوبارہ انتخاب ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان کی جانب سے اسمبلی کارروائی میں حصہ لینے کا عمل بھی کالعدم ہوگا۔دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی اور وزیراعلیٰ نے سینیٹ انتخابات نہیں صرف ارکان کا حلف چیلنج کیا، ہائی کورٹ کی ہدایت پر دوبارہ حلف کی صورت میں مذکورہ رٹ نمٹادی جائے گی لیکن سینیٹ الیکشن کالعدم قرارنہیں دیئے جائیں گے، سینیٹ انتخابات تب کالعدم ہوں گے جب انھیں چیلنج کیا گیا ہو۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت نے صرف ارکان کا حلف چیلنج کیا، سینیٹ الیکشن نہیں تو اسے کیسے کالعدم قراردیاجائے گا؟ اسپیکر نے نئے ارکان سے حلف لینے سے انکار نہیں کیا تھا، اس کو ایجنڈٓے میں شامل کیا تھا، جب اسپیکر نے انکار نہیں کیا تو ایڈمنسٹریٹو پاور کیسے استعمال ہو سکتی ہے؟ ہمارا سوال یہ ہے، اگر اسپیکر انکار کرے تو اس کے بعد ایڈمنسٹریٹو پاور استعمال ہوسکتی ہے۔







