نیپال میں ۲۰۲۵ کے آغاز میں سوشل میڈیا پابندی کے خلاف شروع ہونے والا جنریشن زیڈ احتجاج حکومت مخالف جذبات اور نوجوانوں کی بے چینی کا منہ بولتا اظہار بن گیا۔ احتجاج نے سیاسی عدم استحکام کو ہوا دی، اور اس دوران وزیراعظم کے پی شرما اولی سمیت کئی وزراء نے اپنے عہدے چھوڑ دیے۔
اگرچہ یہ تحریک بنیادی طور پر زمینی حقائق—گردن پھاڑ نوجوانی، بڑھتی بے روزگاری، سیاسی بے اعتمادی، کرپشن، اور اظہار رائے پر قدغن—سے جنم لیتی ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بیرونی عناصر بھی اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جیسے کہ ہندوستان، چین یا دیگر عالمی و علاقائی طاقتیں موجودہ کشیدہ صورتحال کے سیاسی فوائد خود اٹھا سکتی ہیں۔تاہم، فی الحال کسی معتبر ذرائع نے واضح طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ بھارت یا کوئی اور تیسرا فریق حقیقی طور پر اس احتجاج کے پیچھے منظم منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس دعوے کی تصدیق کے لیے مزید آزاد اور معتبر تحقیق ضروری ہے۔
بھارت پر سوالیہ نشان: نیپال کے مظاہروں میں بیرونی کردار کی بازگشت
تفصیلی خبر:نیپال میں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پابندی نے نوجوانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب سمیت درجنوں پلیٹ فارمز کی بندش کے بعد ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ احتجاج بڑھتے بڑھتے پرتشدد صورت اختیار کر گیا، پولیس فائرنگ سے 19 ہلاکتیں اور سیکڑوں زخمی رپورٹ ہوئے
پس منظر:نیپال میں نوجوان طبقہ، جسے عالمی سطح پر “جنریشن زیڈ” کہا جاتا ہے، پہلے ہی بے روزگاری، بدعنوانی اور سیاسی عدم استحکام سے نالاں تھا۔ سوشل میڈیا پر پابندی نے ان کے غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ، سرکاری عمارتوں اور سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں وزیراعظم کے پی شرما اولی کو استعفیٰ دینا پڑا۔
بیرونی اثرات کے خدشات:سیاسی ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ احتجاج بنیادی طور پر اندرونی مسائل سے پھوٹا، لیکن ایسے حالات میں بیرونی طاقتیں مداخلت کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ بھارت کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، مگر اب تک کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیپال کی جغرافیائی اہمیت، بھارت اور چین کے درمیان اس کی پوزیشن اور حالیہ سیاسی بحران اسے خطے کی بڑی طاقتوں کے لیے حساس میدان بنا دیتا ہے۔
موجودہ صورتحال:
-
وزیراعظم کا استعفیٰ نیپال کو نئے سیاسی بحران میں دھکیل رہا ہے۔
پابندی اٹھائے جانے کے باوجود احتجاج ختم نہیں ہوا۔
بیرونی مداخلت کے خدشات بدستور زیر بحث ہیں، مگر تحقیقات جاری ہیں۔







