جھنگ: دریائے چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کے بعد ایک بڑا سیلابی ریلہ جھنگ کے علاقے میں داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے رواز برج کے قریب ایک شگاف لگا دیا تاکہ دباؤ کو کم کیا جا سکے اور قریبی آبادیوں کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔ تاہم اس عمل کے باوجود کئی دیہات زیرِ آب آگئے اور ہزاروں افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق سیلابی پانی نے کئی رابطہ سڑکیں بہا دیں جس کے باعث جھنگ اور قریبی اضلاع کا زمینی رابطہ متاثر ہوا ہے۔ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں جس سے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ مزید نقصانات کو روکا جا سکے، لیکن پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہا ہے۔
محکمہ ریلیف اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب بھر میں اب تک سیلابی صورتحال کے باعث اموات کی تعداد 20 تک پہنچ چکی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔ مختلف متاثرہ علاقوں میں خیمہ بستیاں قائم کی جا رہی ہیں اور متاثرین کو خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ادھر حکومت پنجاب نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قیمت پر انسانی جانوں کا ضیاع برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت دی ہے کہ ریلیف کی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے







