سیالکوٹ :ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن و معروف قانون دان شاہد اقبال وریاہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مون سون شروع ہوتے ہی ملک بھر میں سیلاب کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور یہ سیلاب ہمیشہ اپنے ساتھ تباہی و بربادی لاتے ہیں ‘ہر سال ملک و قوم کا بڑا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے ‘ملک و قوم 1973 ءسے مسلسل تباہ کن سیلابوں بے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں لیکن افسوس سیلاب سے بچاﺅ اور حفاظتی اقدام تاحال حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اسی طرح کالا باغ ڈیم کی تعمیر اہمیت کی حامل ناگزیر اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے،صوبوں کی باہمی مشاورت سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کر کے ملکی زراعت میں انقلاب، کاروبار و ملکی معیشت کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔سیلاب کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ندی، نالے، نہروں کی صفائی اور نئی نہروں کی تعمیر ضروری ہے، جس سے سیلاب کا رُخ تبدیل کرکے ان علاقوں کی طرف منتقل کرنا ہے جہاں نقصانات ہونے کے مواقع کم ہوتے ہیں۔معروف قانون دان شاہد اقبال وریاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں پانی کی قلت نے سر اٹھا لیا ہے،حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ملک میں ایسی ملک دشمن لابی ہے جو پاکستان میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کےخلاف لابنگ اور اس ایشو سے ملک میں امن و امان تباہ کر رہی ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے زراعت پھلے پھولے گی، صنعت و تجارت پر بھی حیرت انگیز مثبت اثرات مرتب ہونگے۔
0







