قطر پر حملے کا فیصلہ میری نہیں، نیتن یاہو نے خود کیا—امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 0

قطر پر حملے کا فیصلہ میری نہیں، نیتن یاہو نے خود کیا—امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ :نے 9 ستمبر اور 10 ستمبر 2025 کو کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملے کا فیصلہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے تنہا کیا تھا، ان کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ یکطرفہ حملہ امریکہ یا اسرائیل کے مشترکہ اہداف کو آگے نہیں بڑھاتا اور یہ قطر جیسے خودمختار ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی تھی، جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے۔ لیکن انہوں نے حماس کے خاتمے کو ایک مستحق مقصد تسلیم کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا یکطرفہ اقدام تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ واشنگٹن کی منظوری یا امریکی حکومت کی پالیسی کا حصہ نہیں تھا بلکہ اسرائیل نے اپنے طور پر یہ کارروائی کی۔ صدر ٹرمپ نے اس حملے کو نقصان دہ اور غیر متوازن اقدام قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام نہ تو امریکی مفادات کو تقویت دیتا ہے اور نہ ہی خطے میں قیام امن کے لیے سودمند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر امریکہ کا قریبی اتحادی ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات اور انسانی بنیادوں پر مختلف کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس لیے قطر کے خلاف ایسی کارروائی دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی تسلیم کیا کہ حماس ایک ایسا گروہ ہے جس نے غزہ کے عوام کی بدحالی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، لیکن اس حقیقت کے باوجود قطر کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے قطری قیادت کو یقین دلایا کہ مستقبل میں امریکہ ان کے خلاف ایسی کسی کارروائی کو سپورٹ نہیں کرے گا اور کوشش کرے گا کہ خطے میں استحکام بحال رہے۔ اس حملے کے بعد خلیجی ممالک اور عالمی برادری نے بھی اسرائیلی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی صدر کی وضاحت کو قطر کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں