0

دوحہ پر حملے کے بعد قطر کے وزیراعظم کی ٹرمپ سے اہم مذاکرات — امریکہ نے آگے ایسے حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی.

حال ہی میں دوحہ، قطر میں اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا، جس نے خطے کی سلامتی اور سفارتی تعلقات میں زبردست ہلچل مچا دی۔اس واقعے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کو نیویارک میں عشائیے پر مدعو کیا، اور یہ ملاقات عوامی اور نجی سطح پر ہوئی۔ملاقات کے دوران ٹرمپ نے قطر کو یقین دلایا کہ ایسے حملے مستقبل میں قطر کی سرزمین پر دوبارہ نہ ہوں۔

انہوں نے اسرائیل کے ساتھ خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، خاص طور پر غزہ کی جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں اور حماس اور اسرائیل کے مابین قیدیوں کی رہائی شامل ہے.قطر نے اس حملے کی بھرپور مذمت کی، اسے “ریاستی دہشت گردی” اور قطر کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ، خطے کے دیگر ممالک نے بھی اسرائیل کی اس کارروائی پر اختلاف کا اظہار کیا، اور یہ واقعہ خطے میں امن اور سفارتکاری کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جا رہا ہے.دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد قطر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ٹرمپ کی طرف سے فوری ملاقات اور یقین دہانی نے یہ تاثر دیا کہ امریکہ قطر کے ساتھ سفارتی سطح پر کھڑا ہے۔اس سے قطر اور امریکہ کے تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دفاعی اور تجارتی تعاون میں اضافہ ممکن ہے۔

قطر کے ساتھ امریکہ کی ملاقات سے اسرائیل کو یہ پیغام گیا ہے کہ ایسے حملے ناقابلِ قبول ہیں۔

امریکہ براہِ راست اسرائیل کو روکنے کا پابند نہیں لیکن یہ دباؤ بڑھا سکتا ہے کہ مستقبل میں قطر یا کسی خلیجی ملک کی خودمختاری پر حملہ نہ ہو۔طر اس وقت حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا اہم ثالث ہے۔امکان ہے کہ اس ملاقات کے بعد قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے کسی نئے معاہدے کے لیے راستہ ہموار ہو۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات:ان ممالک نے بظاہر کھل کر اسرائیل پر تنقید نہیں کی، لیکن پسِ پردہ وہ قطر کی خودمختاری پر حملے کو خطرناک سمجھتے ہیں۔ایران اور ترکی:دونوں نے کھل کر اسرائیل کو جارح قرار دیا اور قطر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔دیگر خلیجی ممالک:زیادہ تر ریاستیں محتاط رویہ اختیار کر رہی ہیں لیکن عوامی سطح پر اسرائیل مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں