0

“حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مشن ؛ اسرائیل نے لبنان کو موہ لینے کے لئے دلکش پیش کش کی ہے.

اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے لبنان کو مکمل مدد فراہم کرنے کی پیشکش دی ہے تاکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جا سکے۔ انہوں نے اپنی فوجوں کو لبنانی چوکیوں سے واپس بلانے کا عندیہ بھی دیدیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان کی خودمختاری کی بحالی اور ریاستی اداروں کی بالادستی کے لیے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

بیان میں یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ لبنانی فیصلے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی زمہ داری کو مانتے ہیں اور ان کا تعاون ایک محفوظ اور مستقبل کے لیے مستحکم بنانے کیلئے تیار ہےاسرائیل نے نہ صرف حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرنے کا اعلان کیا بلکہ اس کے بدلے میں مرحلہ وار اپنی فوج کو جنوبی لبنان کی چوکیوں سے واپس بلانے کا بھی عندیہ دیا.

وزیراعظم ہاؤس کے بیان میں کہا گیا کہ اگر لبنانی فوج ضروری اقدامات اٹھا کر حزب اللہ کو غیر مسلح اور ختم کرتی ہے تو اسرائیل کے ساتھ متفق ہو کر امریکا کی رہنمائی میں بننے والے سیکیورٹی میکنزم کے ساتھ مل کر فوجی انخلا کے اقدامات کرے گی.یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب نو ماہ قبل نومبر 2024 میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک سال طویل سرحدی لڑائی کے بعد جنگ بندی معاہدہ طے پایا۔یاد رہے کہ اسرائیلی فوجیں اب بھی جنوبی لبنان کے پانچ اہم مقامات پر تعینات ہیں جہاں سے وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی رہتی ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں لبنانی صدر اور وزیراعظم نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی امریکی منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے فوج کو ایک سال کے اندر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا حکم دیا تھا۔امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیراک نے حالیہ دنوں بیروت اور یروشلم کے دورے میں کہا کہ اسرائیل کو جنگ بندی کے تحت اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے۔ لبنان نے پہلا قدم اٹھا لیا۔ اب وقت ہے کہ اسرائیل بھی مکمل انخلا کرے۔امریکا نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں ’’غیر ضروری‘‘ فوجی کارروائیاں روک دے کیونکہ اس سے لبنانی حکومت کے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں