0

احمد شریف چوہدری نے ممکنہ غلط فہمی کی بنیاد پر بات کی ہوسکتی ہے، سہیل وڑائچ کا ردعمل دیا۔

قرآنی آیات، معافی، فرشتے اور شیطان کی گفتگو فیلڈ مارشل کی تقریر کا ایک حصہ تھا، جس کا تاویل کرنا آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ آپ اس تقریر کو اپنی پسند کے مطابق سمجھ سکتے ہیں؛ تجزیہ کار کا کالم۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اپنے کالم پر آنے والی وضاحت کے رد عمل میں بیان کیا کہ احمد شریف چوہدری نے جن باتوں کی تردید کی ہے، ان کا ذکر میرے کالم میں نہیں تھا۔ انہوں نے غلط فہمی کی بنا پر بات کی کہ اس کالم سے میرا کوئی ذاتی فائدہ ہو سکتا ہے۔ وہ آگے بھی بتایا کہ احمد شریف چوہدری کا میرے دل میں بڑا احترام ہے اور ذاتی ملاقاتوں میں وہ بہت خوش اُخلاق ہیں۔ انہوں نے وضاحت دی کہ فیلڈ مارشل نے کوئی انٹرویو نہیں دیا، اور ان کالم میں انٹرویو کا زکر بھی نہیں تھا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر کسی کو اب بھی کوئی سوال ہو تو وہ ہمیشہ تیار ہیں اس کا جواب دینے کے لئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کالم کا عنوان ‘پہلی ملاقات’ ہے اور اس سے کچھ زیادہ یا کم نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ میں نے کہیں نہیں لکھا یہ ون ٹو ون ملاقات تھی، جس تقریب میں آٹھ سو حاضرین موجود تھے، نہ تو وہاں اور نہ ہی چند لوگوں کے سامنے کھانے پر ہونے والی گفتگو آف دی ریکارڈ تھی، 9مئی، عمران خان اور معافی کے حوالے سے وہاں کوئی بات نہیں ہوئی یہ بات بالکل درست ہے، براہ کرم اس کالم کو دوبارہ پڑھ لیں، اس میں سرے سے 9 مئی، عمران خان اور ان کی معافی کا کوئی ذکرنہیں، میں نے صرف ایک فقرہ لکھا کہ سیاسی مصالحت کے حوالے سے انہوں نے قرآن کی آیات اوران کا ترجمہ پیش کیا، اب لوگوں اور ٹرولرز نے اس سے کیا تاثر لیا وہ ان کی مرضی ہے، گویا جن پوائنٹس کی اتنے بڑے پیمانے پر تردید کی گئی، ان کا تو ذکر فسانے میں کہیں تھا ہی نہیں، کسی کے اپنے ذہن میں ہو تو وہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔

سہیل وڑائچ کا موقف ہے کہ باقی رہی برسلز کی ملاقات اس حوالے سے قرآنی آیات، معافی، فرشتے اور شیطان کی گفتگو یہ فیلڈ مارشل کی تقریر کا ایک ٹکڑا تھا، اس کی جو مرضی تاویل گھڑلیں یہ آپ کی مرضی ہے، میرے کالم پر ناک بھوں چڑھانے والے اپنا اپنا مقصد اور مفاد حاصل کرنے کیلئے من مانی تاویلیں اور مصنوعی تشریح کرتے رہیں، جوں جوں وقت آگے بڑھے گا، ہر ایک کی اصلیت کھلتی جائے گی، تاریخ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو جھوٹے دعوؤں، جعلی سچائیوں اور نام نہاد الزامات کو عریاں کرتی ہے، تاریخ کا فیصلہ صحافت ہی کے حق میں ہوگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں